ممبئی، 31/جنوری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)راج ٹھاکرے کی پارٹی ایم این ایس اس بار بی ایم سی میں اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہی ہے۔حالت یہ ہے کہ راج ٹھاکرے نے اپنے چچا زاد بھائی اور شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کو اتحاد کے لیے سات بار فون کیا، لیکن ادھو نے ایک بار بھی راج کا فون نہیں اٹھایا۔دراصل،جب سے شیوسینا نے بی جے پی سے اپنا اتحاد توڑا ہے، اس کے بعد سے راج ٹھاکرے اس موقع کا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں لگے ہیں۔بی ایم سی انتخابات کے لیے راج ٹھاکرے شیوسینا کے ساتھ اتحاد کرنا چاہتے ہیں، لیکن جب ادھو ٹھاکرے نے ان کا فون نہیں اٹھایا،تو راج ٹھاکرے نے اپنے معتمد لیڈر بالا ناندگاؤنکر کو تجویز لے کر ادھو کی رہائش گاہ ماتوشری بھیجا۔ایم این ایس کے لیڈر بالا ناندگاؤنکر نے کہاکہ میرے سامنے راج ٹھاکرے نے ادھو ٹھاکرے کو سات بار فون کیا، ہم نے ایک لائن کی تجویز دی تھی کہ ہماری سیٹیں ہمیں چاہیے، باقی آپ بڑے بھائی ہو، ہم چھوٹے بھائی ہیں، باقی ہماری کوئی شرط نہیں ہے۔حالانکہ شیوسینا کے تیوروں سے ایسا لگ رہا ہے کہ وہ فی الحال ایم این ایس کے ساتھ کسی اتحاد کے موڈ میں نہیں ہے۔خود ادھو نے ایم این ایس کی جانب سے کسی تجویز کی بات کو ہی مسترد کر دیا۔ادھو ٹھاکرے نے کہاکہ میرے پاس اتحاد کے لیے کوئی تجویز نہیں آئی ہے، اب یہ سب خبریں آپ میڈیا کے ذریعے ہی سن رہا ہوں کہ کسے دوستانہ میچ کرنا ہے اور کسی کو کیا کرنا ہے، اور ان کی پارٹی اکیلے الیکشن لڑے گی۔سوال یہ ہے کہ کیا راج ٹھاکرے کی پارٹی مہاراشٹر کی سیاست میں اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے، ورنہ راج ٹھاکرے کو شیوسینا کے سامنے ایسے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت کیوں پڑتی؟